تائیوان کی آبادی
تائیوان کے لیے آبادی کے رجحانات، شرح نمو، کثافت، اور آبادیاتی نقطہ نظر۔
آبادی کا جائزہ
تائیوان کی آبادی تقریباً 23.4 ملین افراد پر مشتمل ہے، جو دنیا بھر میں بڑی آبادیوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ علاقہ دنیا کے گنجان آباد ترین علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں کے باشندے بنیادی طور پر مغربی ساحلی میدانوں میں مرکوز ہیں۔ موجودہ تخمینے آبادی میں کمی کے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کی وجہ شرح زرخیزی ہے جو عالمی سطح پر سب سے کم شرحوں میں سے ایک ہے۔ اعلیٰ شہر کاری آبادیاتی منظر نامے کی خصوصیت ہے، جس میں آبادی کی اکثریت تائی پے اور کاؤشونگ جیسے بڑے میٹروپولیٹن مراکز میں رہتی ہے۔
آبادی کی تاریخ
1945 کے واقعات کے بعد، تائیوان نے ایک اہم آبادیاتی تبدیلی کا تجربہ کیا، خاص طور پر 1940 کی دہائی کے آخر میں جب تقریباً 2 ملین لوگ سرزمین چین سے ہجرت کر کے آئے۔ اس آمد نے، جنگ کے بعد کے 'بیبی بوم' کے ساتھ مل کر، 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں آبادی میں تیزی سے اضافہ کیا۔ اس دور میں، جزیرہ ایک زرعی معاشرے سے ایک صنعتی طاقت میں تبدیل ہوا، جس دور کو اکثر 'تائیوان کا معجزہ' کہا جاتا ہے۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں کے دوران بڑھتی ہوئی معاشی خوشحالی اور صحت کی دیکھ بھال کے بہتر نظام نے آبادی کے مستقل پھیلاؤ میں مدد کی۔ تاہم، 1990 کی دہائی تک، شرح نمو سست ہونا شروع ہو گئی کیونکہ یہ علاقہ آبادیاتی منتقلی کے آخری مراحل سے گزرا۔ 2000 کی دہائی کے اوائل میں، شرح زرخیزی متبادل سطح سے نمایاں طور پر نیچے گر گئی، جس کے نتیجے میں ایک بوڑھے معاشرے اور سکڑتی ہوئی لیبر فورس کے موجودہ آبادیاتی چیلنجز پیدا ہوئے۔ ان تاریخی تبدیلیوں کے نتیجے میں ایک انتہائی ترقی یافتہ لیکن تیزی سے بوڑھی ہوتی ہوئی آبادی کا ڈھانچہ سامنے آیا ہے۔
نمو کا تجزیہ
حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تائیوان آبادی میں قدرتی کمی کے دور میں داخل ہو چکا ہے، جہاں سالانہ اموات کی تعداد پیدائشوں کی تعداد سے تجاوز کر گئی ہے۔ کل شرح زرخیزی کا موجودہ تخمینہ 0.85 بچے فی عورت ہے، جو مستحکم آبادی کے لیے درکار 2.1 کی متبادل سطح سے بہت کم ہے۔ اس کمی کی بڑی وجہ سماجی و اقتصادی عوامل ہیں جیسے رہائش کے زیادہ اخراجات، کام کے طویل اوقات، اور دیر سے شادی کرنے یا اکیلے رہنے کا بڑھتا ہوا رجحان۔ تخمینے بتاتے ہیں کہ آبادی تیزی سے بوڑھی ہوتی رہے گی، جو سوشل سیکیورٹی اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے لیے اہم چیلنجز پیدا کرے گی۔ حکومت نے پیدائش کی شرح بڑھانے کے لیے مختلف پالیسیاں نافذ کی ہیں، جن میں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے سبسڈی اور ٹیکس مراعات شامل ہیں، لیکن ان اقدامات نے ابھی تک نیچے کی طرف جانے والے رجحان کو نہیں بدلا ہے۔ ہجرت لیبر کی کمی کو کم کرنے میں ایک ممکنہ عنصر بنی ہوئی ہے، لیکن قدرتی ترقی منفی ہی ہے۔
آبادی کی کثافت
آبادی کی کثافت تقریباً 647 افراد فی مربع کلومیٹر (1,676 افراد فی مربع میل) ہے، جو اسے مشرقی ایشیا کے خطے کے پرہجوم ترین علاقوں میں سے ایک بناتی ہے۔
شہری کاری کے رجحانات
تقریباً 79 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے، جو بڑے صنعتی اور تجارتی مراکز پر مرکوز ایک انتہائی مرکزی معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔
علاقائی موازنہ
تائیوان مشرقی ایشیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، جو اپنے پڑوسیوں جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ کئی آبادیاتی چیلنجز کا اشتراک کرتا ہے۔ اپنے نسبتاً چھوٹے زمینی رقبے 36197 کلومیٹر² (13,976 مربع میل) کے باوجود یہ خطے کی بڑی آبادیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی آبادی کی کثافت سرزمین چین سے نمایاں طور پر زیادہ ہے اور اس ذیلی خطے کے دیگر گنجان آباد علاقوں کے برابر ہے۔ تاریخی طور پر، تائیوان کی آبادیاتی منتقلی کئی مغربی ممالک کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ہوئی، جو صرف چند دہائیوں میں تیز رفتار ترقی سے قدرتی کمی کی طرف منتقل ہو گئی۔ فی الحال، اسے دنیا کی سب سے کم شرح زرخیزی کا سامنا ہے، یہ صورتحال اس آبادیاتی بحران کی عکاسی کرتی ہے جو زیادہ تر ترقی یافتہ مشرقی ایشیا میں دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی درجہ بندی کا سیاق و سباق
آبادی کے لحاظ سے، بھارت 1 ارب کے ساتھ سب سے آگے ہے، جبکہ ٹووالو کی آبادی سب سے کم 9.6 ہزار ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
تائیوان کی آبادی تقریباً 23.4 ملین افراد پر مشتمل ہے۔ یہ تعداد اسے مشرقی ایشیا کے خطے کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقوں میں سے ایک بناتی ہے۔ اگرچہ 20 ویں صدی کے دوران آبادی تیزی سے بڑھی، لیکن حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بہت کم شرح پیدائش کی وجہ سے یہ قدرتی کمی کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔
تائیوان دنیا کی بڑی آبادیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ 20 سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں شامل نہیں ہے، لیکن ایشیا کے اندر اس کی ایک اہم آبادیاتی پوزیشن ہے۔ اس کی آبادی کا حجم آسٹریلیا کے برابر ہے، باوجود اس کے کہ تائیوان کا زمینی رقبہ بہت چھوٹا اور بہت زیادہ گنجان آباد ہے۔
آبادی کی کثافت تقریباً 647 افراد فی مربع کلومیٹر (1,676 افراد فی مربع میل) ہے۔ یہ زیادہ کثافت جزیرے کے مغربی جانب مرکوز ہے، جہاں زمین ہموار ہے۔ وسطی اور مشرقی علاقے پہاڑی ہیں اور بڑے میٹروپولیٹن ساحلی پٹیوں کے مقابلے میں بہت کم آباد ہیں۔
آبادی اس وقت سکڑ رہی ہے، حالیہ تخمینے تقریباً -0.1 فیصد کی شرح نمو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ کمی قدرتی کمی کا نتیجہ ہے، جہاں سالانہ اموات سالانہ پیدائشوں سے زیادہ ہیں۔ یہ رجحان حکومتی پالیسی کے لیے ایک بڑی توجہ کا مرکز بن گیا ہے کیونکہ یہ علاقہ ایک چھوٹی اور بوڑھی آبادی کے لیے تیار ہو رہا ہے۔
شرح زرخیزی تقریباً 0.85 بچے فی عورت ہے، جو دنیا میں سب سے کم شرحوں میں سے ایک ہے۔ یہ شرح آبادی کے متبادل کے لیے درکار 2.1 بچے فی عورت سے نمایاں طور پر کم ہے۔ رہائش کے زیادہ اخراجات اور کیریئر کے دباؤ جیسے عوامل جزیرے بھر میں شرح پیدائش میں جاری کمی کا باعث بن رہے ہیں۔
تقریباً 79 فیصد آبادی شہری ماحول میں رہتی ہے۔ زیادہ تر باشندے تائی پے، نیو تائی پے اور کاؤشونگ جیسے بڑے شہروں میں مرکوز ہیں۔ شہر کاری کی یہ اعلیٰ سطح گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران تیز رفتار صنعت کاری کا نتیجہ ہے، جس نے کارکنوں کو دیہی علاقوں سے شہری مراکز کی طرف راغب کیا۔
تائیوان کے لیے آبادی کے تخمینے World Bank Open Data پلیٹ فارم سے حاصل کیے گئے ہیں، جو قومی مردم شماری، اہم اعداد و شمار کے رجسٹر، اور اقوام متحدہ کی آبادی کے تخمینوں کو یکجا کرتا ہے۔ اعداد و شمار کو سالانہ اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے، عام طور پر 1-2 سال کی رپورٹنگ تاخیر کے ساتھ۔
اس ڈیٹا کے بارے میں
- ماخذ
- World Bank
SP.POP.TOTL - حدود
- کچھ ممالک کے لیے ڈیٹا 1-2 سال پرانا ہو سکتا ہے۔ کوریج انڈیکیٹر کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔